Tuesday, 6 February 2018

میری عمران خان کے ساتھ لو میرج نہیں تھی

0 comments
لاہور (نیوز ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے کہاہے کہ میری عمران خان کے ساتھ لو میرج نہیں تھی بلکہ میں نے ایک نظریے سے شادی کی تھی ۔تفصیلات کے مطابق ریحام خان کا کہناتھا کہ مجھے لگا کہ عمران خان اور میرے خیالات ایک طرح کے ہیں ،نکاح کا تقدس ہو تاہے مجھے وہ تقدس دکھائی نہیں دیا ۔ان کا کہناتھا کہ ہم پٹھان ہیں اور پٹھان دوستی اور محبت میں جان بھی دے سکتے ہیں لیکن جب کوئی دھوکہ اور جھوٹ بولتا ہے یا مان توڑتا ہے تو گزارا نہیں ہو سکتا ۔ریحام خان کا کہناتھا کہ میری عائشہ گلالئی سے کوئی سلام دعا نہیں ہے اگر عائشہ کے پاس عمران خان کے خلاف کوئی ثبوت ہیں تو انہیں دکھانے چاہئیں ۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے پاکستانی کلچرپرتنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی کلچرکاسب سے بڑامسئلہ منافقت ہے مغرب میں منافقت نہیں،ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے، بند دروازے کے پیچھے نشہ اور کمروں میں خواتین بھی بند کی ہوتی ہیں، شادی شدہ لوگوں کے گھربھی تباہ کیے جاتے ہیں۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کلچرکاسب سے بڑامسئلہ منافقت ہے۔ مغرب میں منافقت نہیں ہے۔وہاں اگرکچھ کیا جاتا ہے توکھلم کھلا کیا جاتا ہے۔میں جب بھی پاکستان میں چھٹی پرآئی تومیرے لیے پاکستانی کلچرکبھی بھی جاذب نہیں تھا۔ پاکستان میں رہنامیرے لیے سب سے بڑی سزا تھی۔یہ صرف اس لیے تھا کہ پاکستانی اور مغرب کے کلچرمیں فرق ہے۔انہوں نے کہاکہاگرآپ چادرپہن کراور دروازہ بند کرکے وہ کام کریں گے جوگورے شاید کبھی نہ کریں۔ہاتھ میں تسبیح ہو، دروازہ بند کرکے منشیات استعمال کررہے ہوں،خواتین کمروں میں بند کی ہوں، شادی شدہ لوگوں کے گھرانے تباہ کررہے ہوں۔ کم ازکم مغربی کلچرمیں ایسا نہیں ہوتا۔ اگروہاں کسی کوپتاہو کہ یہ شادی شدہ ہے توکوئی اس کی طرف نظراٹھا کربھی نہیں دیکھتا۔ وہاں اگرپاکستانی کلچرجیسا کچھ ہوتوملامت کی جاتی ہے لیکن یہاں بڑی دلیری سے کہا جاتا ہے کہ چارمیری بیویاں ہیں۔ریحام خان نے کہا کہ میں پاکستانی کلچرکا بڑامشاہدہ کیا ہے یہاں نمازکی صفوں میں بھی دیکھتے ہیں کہ کس نے ہاتھ کہاں باندھے ہیں۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔